Ticker

6/recent/ticker-posts

اردو زبان و ادب کی تاریخ و اشاعت میں صوفیائے کرام کا حصہ : مولوی عبد الحق

اردو زبان و ادب کی تاریخ و اشاعت میں صوفیائے کرام کا حصہ : مولوی عبد الحق

اردو زبان و ادب کی تاریخ و اشاعت میں صوفیائے کرام کا حصہ: اردو زبان و ادب کی نشو و نما سے متعلق ماہرین لسانیات کے فراہم کردہ مواد ، اردو زبان کی اولین تخلیقات اور بزرگان دین کے ملفوظات کی روشنی میں یہ بات قطعیت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو زبان کے فروغ اور اس کی نشو و نما میں صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنا پیغام عوام تک خود عوام کی زبان میں پہنچائیں۔ چنانچہ صوفیائے کرام نے خواص کی ادبی زبان کے بجائے عوام میں رائج زبان کو اپنی پیغام رسانی کا وسیلہ اظہار بنایا اور انھی کی بولی میں تعلیم و تلقین فرمائی۔ اس طرح انھوں نے عوامی زبان کے دائرے کو وسیع کیا اور اپنی ضرورت کے مطابق نئے نئے الفاظ استعمال کر کے اس زبان کے ذخیر ہ الفاظ میں قابل قدر اضافہ کیا۔

صوفیاۓ کرام نے اس روایت سے بغاوت کی

صوفیاء سے پہلے اہل علم نو مولود عوامی زبان (اردو) میں لکھنا اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے۔ عالمانہ تصانیف اس عوامی اور بازاری زبان میں پیش کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ صوفیاۓ کرام نے اس روایت سے بغاوت کرتے ہوئے علاقائی زبانوں کے الفاظ اور سنسکرت زبان میں رائج مذ ہبی اصطلاحات تک استعمال کیں۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی جو ہچکچاتے تھے اس کا استعمال شعر و سخن ، مذہب و تعلیم اور علم و حکمت کے اغراض کے لئے شروع کر دیا۔ اردو زبان اور اردو نظم و نثر کو بنیاد فراہم کرنے والے اور اس کی اولین روایتوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے والے صوفیاۓ کرام کی فہرست بہت طویل ہے ۔ ان میں سے بعض کی خدمات کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔

مولوی عبد الحق

مولوی عبد الحق نے اپنے مقالہ اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا حصہ “ میں ان بزرگان دین کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے جنھوں نے اردو زبان کے دائرہ کو وسیع کرنے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انھوں نے خواجہ معین الدین چشتی اور فرید الدین شکر گنج ہی کے عہد سے ان بزرگان دین کی سر گرمیوں کا سراغ لگایا ہے جن کی کوششوں سے اردوزبان کی تشکیل و ترویج میں مدد ملی۔


امیر خسرو

(1) امیر خسرو۔ ساتویں صدی ہجری کے اس بزرگ نے اردو زبان کو ادبی شان عطا کرنے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔امیر خسر و ہی نے باقاعدہ طور پر فارسی و ہندی کی آمیزش سے اردو کا اولین روپ پیش کیا۔

’’گوری سوے پیج پر مکھ پر ڈارے کیس
چل خسر و گھر آپنے سانجھ بھئی چود لیس‘‘


شیخ شرف الدین یحیٰی منیری

(2) شیخ شرف الدین یحیٰی منیری۔ شیخ صاحب پور بی اور ہندی زبانوں کے شاعر تھے۔ان کی طرف جھاڑ بچھو نک کے منتر منسوب ہیں جو اسی ہندی زبان میں ہیں ۔ جس نے آگے چل کر اردو کی شکل اختیار کی۔

خواجہ بندہ نواز گیسو دراز

(3) خواجہ بندہ نواز گیسو دراز۔ حضرت نظام الدین اولیاء کے خلیفہ اور خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے شاگرد تھے۔ ۱۳۹۹ء کے آس پاس گلبرگہ پہنچے اور وعظ و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ اس کام کے لئے انھوں نے عام بول چال کی زبان اردو کا انتخاب کیا۔ تصوف سے متعلق متعدد رسالے ان سے منسوب ہیں۔


صدرالدین

(4) صدرالدین۔ بہمنی دور کے اس بزرگ کی تصوف سے متعلق کتاب ’’کسب محویت‘‘ کافی مشہور ہے۔اس کتاب کے علاوہ انھوں نے کئی رسالے بھی لکھے۔


سید محمد اکبر حسینی

(5) سید محمد اکبر حسینی۔ یہ حضرت گیسو دراز کے صاحب زادے تھے۔ اپنے عہد کے ایک مشہور عالم و فاضل بزرگ تھے۔انھوں نے نظم و نثر دونوں میں اپنے آثار چھوڑے ہیں۔


شاہ میراں جی شمس العشاق

(6) شاہ میراں جی شمس العشاق۔ان کے روحانی فیوض سے لاکھوں بندگان خدا فیض یاب ہوۓ۔انھوں نے سلوک و معرفت پراردوزبان میں متعد سالے اور نظمیں لکھیں۔

ان کے علاوہ ملا وجہی، حضرت قطب شاہ، حضرت شاہ عالم، حضرت سید محمد جونپوری، شیخ بہاؤالدین باجن، شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی طرف منسوب نظم و نثر کے ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم ریخته و دکنی کے نام سے جانی جانے والی عوامی زبان ادبی و تخلیقی زبان کا درجہ حاصل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔
اس طرح صوفیائے کرام نے اردوزبان کی موجودہ شاندار عمارت کو بنیاد فراہم کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے