Ticker

6/recent/ticker-posts

ڈراما یہودی کی لڑکی کا خلاصہ | Drama Yahudi Ki Ladki Ka Khulasa

ڈراما یہودی کی لڑکی کا خلاصہ

ڈراما یہودی کی لڑکی کے مصنف کا نام آغا حشر کاشمیری ہے۔ یہ ڈراما کل ملا کر تین ایکٹ پر مشتمل ہے۔ ڈرامے کے پہلے ایکٹ میں آٹھ سین، دوسرے میں سات اور تیسرے میں تین ہیں ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو ڈراما یہودی کی لڑکی میں کل اٹھارہ سین ہیں۔ اس ڈرامے میں ایک یہودی لڑکی اور اس کے باپ کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ڈرامے کی ہیروئن کے باپ کے ذریعے یہودی قوم پر رومی حکمرانوں کا ظلم و ستم کی داستان، اس کے مذہبی تشخص کو بیدردی سے ختم کرنے نیز اس سے نفرت و حقارت اور ہر قدم پر اس کی آزمائش کے علاوہ باعصمت و باوفا حنا (یہودی کی لڑکی) کو مجبور کرنے اور حنا کی داستانِ محبت اور اس کے ایثار و قربانی کو نہایت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔

یہودی کی لڑکی کا خلاصہ

سلطنتِ روم میں یہودی قوم کے علاوہ دیگر مذاھب کے لوگ بھی رہتے ہیں مثلاً عیسائی اور پارسی بھی آباد ہیں۔ مذہبی رہنما بروٹس کو یہودیوں سے سخت نفرت تو ہے ہی اور وہ انھیں حقیر اور ذلیل بھی سمجھتا ہے۔ عزرا نام کا شخص اسی یہودی قوم کا سردار ہے۔ اس کی ایک لڑکی ہے جس کا نام حنا ہے۔ شہزادہ مارکس شہزادی آکٹیویا کا منگیتر ہے لیکن وہ حنا سے محبت کرتا ہے۔ حنا بھی مارکس کو بے حد چاہتی ہے۔ لیکن جب حنا کو معلوم ہوتا ہے کہ مارکس یہودی نہیں بلکہ رومی ہے تو اسے بہت افسوس ہوتا ہے اور دل کو تکلیف بھی پہونچتے ہے۔ حنا اس حقیقت کو جاننے کے بعد بھی مارکس کے لیے اپنی محبت میں کوئی کمی نہیں پاتی ہے۔

یہودی کی لڑکی

مارکس حنا سے کہتا ہے کہ یہاں ہم دونوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے اس لیے ہم دونوں ایسا کرتے ہیں کہ یہاں سے کہیں دور نکل چلتے ہیں۔ حنا مارکس کے ساتھ گھر چھوڑ کر بھاگنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ لیکن عین وقت پر قوم کا سردار عزرا آ جاتا ہے اور دونوں کے فیصلے جان کر بےحد ناراض ہوتا ہے اور مارکس کو بہت برا بھلا کہتا ہے۔ وہ دونوں کی شادی کرنے کو صرف ایک شرط پر منظور کرتا ہے کہ مارکس کو یہودی مذہب قبول کرنا ہوگا لیکن رومی مارکس کسی قیمت پر یہودی مذہب قبول کرنے کو راضی نہیں ہوتا۔ اس لیے انتہائی غصے میں عزرا اسے گھر سے نکال دیتا ہے۔

حنا اپنے عاشق مارکس پر دغا بازی کا الزام عائد کر کے اپنا مقدمہ بادشاہ مارکس کے باپ کے دربار میں پیش کرتی ہے۔ بروٹس یہودیوں کے خلاف زہر اُگلتا ہے اور دلی نفرت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ بادشاہ جو کہ مارکس کا باپ ہے، انصاف پسند اور قانون کا محافظ ہے اس لیے حنا کی شکایت غور سے سنتا ہے اور مارکس کو اس کی نازیبا حرکت اور دھوکے بازی کے جرم میں سخت سزا کا مستحق قرار دیتا ہے۔

بروٹس، عزرا اور حنا کی مخالفت اور مارکس کے حق میں بادشاہ کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر پھر بھی بادشاہ اپنے منصفانہ مزاج کی بدولت آئینِ حکومت کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہزادے کو ہتھکڑی پہنانے اور مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلانے کا حکم صادر کر دیتا ہے۔

ادھر آکٹیویا حنا کے پاس جاتی ہے اور اس سے مارکس کو معاف کر دینے کی درخواست کرتی ہے۔ بڑی منت و سماجت کرنے کے بعد حنا اپنا مقدمہ واپس لے لیتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی سزا موت ہے۔ مارکس کو رِہا کر دیا جاتا ہے۔ عزرا اور حنا کو اس جرم کی پاداش میں کہ انھوں نے مارکس پر غلط الزام لگایا ہے کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ میں ڈال دینے کا حکم دیا جاتا ہے۔

یہی وہ خاص لمحہ جس میں عزرا اس راز کا انکشاف کرتا ہے کہ حنا بروٹس کی بیٹی ہے، اس کی نہیں۔ جس وقت شہر میں آگ لگی ہوئی تھی اس نے حنا کو بچا کر اپنے ساتھ لے آیا تھا اور اس کی اپنی بچی کی مانند پرورش بھی کی تھی۔ بروٹس عزرا کی فراخ دلی، عالی ظرفی اور انسان دوستی کا قائل ہو جاتا ہے اور حنا کو اپنے سینے سے لگا لیتا ہے۔ حنا یہ پسند کرتی ہے کہ وہ عزرا ہی کے ساتھ رہے اور بروٹس بھی خوشی کے ساتھ اُسے اس بات کی اجازت دے دیتا ہے کہ وہ جس مذہب میں پروان چڑھی ہے اور جس کی گود میں اس کی پرورش ہوئی ہے، وہ اگر چاہے تو زندگی بھر اسی کے ساتھ رہے۔

یہودی کی لڑکی

ڈرامے کی آخر میں مارکس، حنا سے اپنی بے وفائی کی معافی مانگتا ہے۔ حنا کہہ دیتی ہے کہ اسے جھوٹی دنیا کی اب کوئی خوشی درکار نہیں ہے یوں مارکس اور آکٹیویا کی شادی ہو جاتی ہے اور اس طرح ڈراما یہودی کی لڑکی کی کہانی اختتام پذیر ہوتی ہے۔

ڈراما یہودی کی لڑکی کی کردار نگاری

ڈراما یہودی کی لڑکی میں مندرجہ ذیل اہم کردار شامل ہیں۔
مارکس جو کہ ایک رومن شہزادہ ہے۔
بروٹس جو کہ ایک مذہبی رہنما ہے۔
عزرا : بوڑھا یہودی
حنا یہودی عزرا کی بیٹی اور مارکس کی محبوبہ
رومن بادشاہ
رومن شہزادی آکٹیویا

اس ڈرامے میں عزرا، حنا اور مارکس مرکزی کردار ہیں۔ ان سب کے علاوہ بادشاہ، بروٹس اور آکٹیویا کے کردار بھی ڈرامے میں اہمیت کے حامل ہیں۔

اگر عزرا کے کردار غور کیا جائے تو عزرا ایک راسخ الاعتقاد یہودی ہے، وہ رومیوں کے جبر و استبداد اور سخت سے سخت مخالفت کے بعد بھی اپنے مذہب پر آخر تک قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے ایمان کی خاطر جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔ رومی حاکموں کے آگے کبھی سر خم نہیں کرتا ہے۔ اس کے کردار کا دوسرا مضبوط پہلو ہے محبت، رحم دلی اور انسان نوازی۔ وہ اپنے دشمن بروٹس کی بیٹی حنا کو اپنی بیٹی کی طرح پرورش کرتا ہے اور اس سے بیحد محبت بھی کرتا ہے۔ حنا کو کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتا کہ وہ اس کی اپنی بیٹی نہیں ہے۔ راست بازی، قومی جوش اور مذہبی تشخص کی ایک اعلیٰ مثال کی جھلک اس کے کردار میں موجود ہے۔

اس ڈرامے میں دوسرا اہم کردار حنا کا ہے۔ وہ عزرا کی بیٹی اور ایک یہودی لڑکی ہے۔ حنا وفا شعاری، نسائیت اور جرأت مندی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ وہ عزرا کا بیحد احترام کرتی ہے اور وہ اس کی راسخ الاعتقادی سے بھی خوب واقف ہے۔ حنا مارکس سے بے حد محبت کرتی ہے اور یہ معلوم ہونے پر کہ وہ ایک یہودی نہیں رومن ہے تو وہ اس کے ساتھ بھاگ چلنے کو تیار ہوتی ہے کہ اس کے باپ عزرا کو واقعے کا علم ہو جاتا ہے۔ وہ مارکس کو مذہب بدلنے کو کہتا ہے تو مارکس اس خواہش کو رد کر دیتا ہے اور محبت پر سلطنت کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ آنے والا حکمران تھا۔

یہی وجہ ہے کہ حنا اس کی بے وفائی پر بادشاہ کی عدالت سے انصاف کی اپیل کرتی ہے۔ بادشاہ حنا کی فریاد پر شہزادے مارکس کو سزا سناتا ہے ۔حنا کا کردار، انسانیت اور وفا کا پیکر ہے۔ وہ عورت کے درد اور اس کی دلی کیفیت کو خوب سمجھتی ہے۔ اسی لیے اکٹیویا کی التجا پر مارکس کو معاف کر دیتی ہے اور مقدمہ واپس لے لیتی ہے۔

ڈرامے میں بادشاہ کا کردارمختصر ہی سہی مگر حنا کے لیے اس کا عادلانہ رویہ اور منصفانہ سلوک اس کے کردار کو عظمت اور بلندی بخشتا ہے۔ ایک طرف بیٹا ہے اور دوسری طرف قانون، مگر بادشاہ بیٹے کی محبت پر قانون کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی انصاف پسندی ہی اس کے کردار کا جمال بھی ہے اور جلال بھی۔

مارکس کہانی کے ہیرو اور شہزادے کا کردار ہے۔ جو حنا سے محبت کرتا ہے مگر آکٹیویا سے اس کی شادی طے پاتی ہے۔ مارکس کے کردار کے ذریعہ حشرؔ نے ایسے افراد کی تصویر کشی کی ہے جو قانون کے سامنے بے بس اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہیں اور کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے مگر ساتھ ہی انھیں اپنی کمزوریوں کا احساس بھی ہے۔

بروٹس انتہائی ظالم، سفاک اور جابر رومی ہے۔ حنا جب مارکس پر دغا بازی کا مقدمہ واپس لیتی ہے تو عزرا اور حنا کو کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے۔ اس وقت عزرا جب یہ راز بتاتا ہے کہ حنا در اصل بروٹس کی بیٹی ہے اس کی نہیں، یہ ایک لمحہ بروٹس کی زندگی اور شخصیت کا رخ بدل دیتا ہے۔ ظالم بروٹس کے سینے میں پدرانہ محبت کا طوفان برپا ہو جاتا ہے اور وہ عزرا سے گڑگڑا کر التجا کرتا ہے اور حنا کی زندگی کی بھیک مانگتا ہے۔

آکٹیویا کا کردار بھی صاف ستھرا اور نسائیت سے بھر پور ہے۔ وہ مارکس سے بیحد محبت کرتی ہے اور شہزادی ہوتے ہوئے حنا سے اپنے محبوب اور منگیتر مارکس کی زندگی بچانے کی التجا کرتی ہے۔

اس ڈرامے کے کردار ایسے کردار ہیں جو قاری اور ناظر پر گہرا تأثر چھوڑتے ہیں۔ یہ کردار ہمارے معاشرے کے جانے پہچانے انسان ہیں جو اچھائی برائی، نیکی بدی اور انسانی احساسات و جذبات کی زندہ اور متحرک تصویریں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔آغا حشر نے ان تمام کرداروں کی پیشکش نہایت خوبصورتی سے کی ہے۔


اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے