Ticker

6/recent/ticker-posts

چوتھی کا جوڑا عصمت چغتائی کے افسانہ کا خلاصہ | Chauthi Ka Joda Ka Khulasa

چوتھی کا جوڑا کا مرکزی خیال خلاصہ : عصمت چغتائی

چوتھی کا جوڑا اس افسانہ کی مصنفہ عصمت چغتائی ہیں۔عصمت چغتائی کی پیدائش 1915 اور وفات 1991 میں ہوئی۔وہ اردو کی مشہور افسانہ نگار و ناول نگار ادیبہ گزری ہیں۔ 21اگسٹ1915ء کو بدایوں اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام مرزاا قسیم بیگ چغتائی تھا۔عصمت چغتائی کا بچپن جودھپور میں گزرا۔یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ ان کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی اپنے دور کے نامور ادیب تھے۔عصمت چغتائی کی شادی شاہد لطیف سے ہوئی۔وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہیں۔انہوں نے افسانہ نگاری۔ناول نگاری اور خاکہ نگاری میں خوب نام کمایا۔وہ جدید خیالات کی علمبردار مصنفہ تھیں۔ اور سماج سے بغاوت رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے حقوق نسوا ں کے لیے آواز اٹھائی۔انہوں نے خواتین سے جڑے مسائل کو بے باکی سے اپنے افسانوں اور ناولوں میں پیش کیا۔ان کے افسانے اور ناول ہندوستان کی متوسط طبقے کی مسلم گھرانوں کی لڑکیوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے جنسی موضوعات پر بھی لکھا اور غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی مجبوریوں اور محرومیوں کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔

افسانہ چوتھی کا جوڑا کا خلاصہ

عصمت چغتائی نے اپنے مشہور افسانہ’’ چوتھی کا جوڑا ‘‘ میں غریب لڑکیوں کی شادی کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے سماج کی فرسودہ رسم و رواج کے خلاف بھی چوٹ کی۔ ان کے اہم افسانوی مجموعے ’’چوٹیں‘‘ اور ’’ بڑی شرم کی بات‘‘ ہیں۔ان کے اہم ناول’’ ٹیڑھی لکیر۔ضدی۔فسادی۔سودائی اور عجیب آدمی ہیں۔ان کی ایک خود نوشت کاغذی ہے پیرہن بھی شائع ہوچکی ہے۔1975ء میں ان کی کہانی کو فلم فیر ایوارڈ بھی ملا۔1984ء میں انہیں غالب ایوارڈ دیا گیا۔ان کا انتقال ممبئی میں 1991ء میں ہوا۔


چوتھی کا جوڑا : عصمت چغتائی کے افسانہ کا خلاصہ

افسانہ چوتھی کا جوڑا ایک شاہکار افسانہ ہے جس میں غریب گھرانے کی لڑکیوں کی شادی کے مسائل کو بڑی خوبی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ عصمت چغتائی چونکہ شمالی ہند کی رہنے والی تھیں۔ چنانچہ اس افسانے میں بھی انہوں نے وہیں کے مسلم گھرانوں کا قصہ افسانوی رنگ میں پیش کیا ہے۔ عصمت چغتائی نے اس افسانے میں کبریٰ کی ماں کے احوال لکھے ہیں۔ جو اپنے علاقے میں شادی کے گھرانوں میں جہیز کے کپڑے سینے اور کسی کی موت پر کفن تیار کرنے کی ماہر تھیں۔ ان کی دو بیٹیاں کبریٰ اور حمیدہ تھیں۔ ان کے والد تھے جو حقہ پیتے پیتے دق کا شکار ہوکر ختم ہوجاتے ہیں۔


ایک ماں دو بچیوں کی شادی کی آرزو لیے اپنے سماج میں اپنے فن کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ کبریٰ کی ماں کو عصمت چغتائی نے ایک تجربہ کار خاتون کے طور پر پیش کیا ہے۔جو کسی بھی حال میں دوپٹے کے لیے یا کفن کے لیے کپڑا درست کرلیتی تھیں۔ کبریٰ گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی اور کام کے دوران اس کی شادی کی فکر کے لیے اماں کی مجبوریوں کا اندازہ کرلیتی تھی۔ ایک دفعہ اطلاع ملتی ہے کہ کبریٰ کے منجھلے ماموں کا تار آتا ہے کہ ان کا بیٹا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلے میں ان کے گائوں آرہا ہے اور وہ ان کے گھر قیام کرے گا۔ کبریٰ کی ماں دل ہی دل میں راحت اور کبریٰ کے رشتے کا سوچ راحت کا شایان شان انتظام کرنا شروع کردیتی ہے۔ کبریٰ اپنے ہاتھوں سے کمرے میں چونا ڈالتی ہے۔ اور راحت کے لیے ہر روز پراٹھے اور مزے دار کھانے بناتی ہے۔ کبریٰ کی ماں غربت میں بھی کہیں نہ کہیں سے پیسے جوڑ کر راحت کے لیے اچھے پکوانوں کا انتظام کرتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ وہ کبریٰ کو پسند کرلے۔


راحت کے لیے کھلی کے کباب بنائے جاتے ہیں۔ بی اماں کسی طرح راحت اور کبریٰ کی بات چلانا چاہتی ہیں۔ وہ کباب کے بارے میں پوچھتی ہیں تو راحت کوئی خاص جواب نہیں دیتا اس سے کبریٰ کو مایوسی ہوتی ہے کہ ماں بڑی محنت سے سلائی کرکے پیسے کماتے ہوئے راحت کے لیے پراٹھی کوفتے کباب اور میٹھے پکوا رہی ہیں اور یہ کہتا ہے کہ کھلی کے کباب کھلائے۔ وہ کبریٰ کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اتنا زیادہ کام نہ کریں جوشاندہ پیا کریں۔حمیدہ راحت کو چھیڑنے کی کوشش کرتی ہے لیکن راحت ٹس سے مس نہ ہوتا ہے۔ بی اماں تھک ہار کر اپنے پیروں کے توڑے گروی رکھ کر مشکل کشا کی نیاز کرتی ہیں تاکہ کبریٰ کے لیے راحت کا دل پگھلے۔ لیکن راحت یا اس کے گھر والوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں آتا ہے۔ بی اماں کمزور ہوگئی تھیں۔لیکن اپنی بیٹی کا چوتھی کا جوڑا مسلسل تیار کر رہی تھیں۔ وہ حمیدہ سے بھی کہتی تھیں کہ راحت نے اس سے کچھ مذاق کیا تو چوتھی کے دن اس سے خوب بدلالے لے۔کبریٰ کوبخار چڑھ گیا تھا اس کے باوجود نیاز کے ملیدہ تیار کرایا گیا۔


مولوی صاحب نے اس پر کچھ دم کیا تھا۔ اور راحت کو کھلانے کو کہا جاتا ہے۔ کبری اور حمیدہ سوچتی ہیں کہ ہم کتنی محنت سے پیسے کما کر قرض لے کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور یہ راحت کے پیٹ میں جائے گا۔کبریٰ چوتھی کے جوڑے اور اپنی شادی کی برات کے خواب دیکھتی رہی۔ بی اماں اسے ملیدہ دے کر راحت کو کھلانے کے لیے کہتی ہیں تاکہ ان کی مراد بر آئے اور راحت اور کبریٰ کی شادی کی کچھ بات بنے۔ اپنی شادی کی خوش خبری سننے کی متمنی خواب و خیال میں کھوئی کبریٰ ملیدے کا نوالہ راحت کے منہ کی جانب بڑھاتی ہے لیکن وہ اپنے ہوش کھودیتی ہے اور ملیدے کی پلیٹ گر جاتی ہے۔پلیٹ لالٹین پر گرکر اسے بجھادیتی ہے جیسے کبریٰ کی قسمت بجھ گئی ہو۔ باہر محلے کی خواتین مشکل کشا کی شان میں گیت گارہی تھیں۔ صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بی اماں اور کبریٰ کی قسمت کو سیاہ کرتے ہوئے روانہ ہوجاتا ہے۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی۔ اور اسے جلدی تھی۔اس کے بعد کبریٰ اور بی اماں کے گھر میں نہ کبھی انڈے تلے گئے نہ کبھی گھی کے پراٹھے پکے۔ کبری کب سے دق کا شکار ہوگئی تھی۔ اچانک موت کے منہ میں جاکر سوگئیں۔محلے کی عورتیں جمع ہوئیں۔ اور بی اماں جو سارے محلے کے گھروں میں چوتھی کا جوڑا اور کفن تیار کرتی تھیں وہ سب مل کر کپڑے تیار کرنے میں ماہر بی آپا کبریٰ کا کفن تیار کرنے میں جٹ گئیں۔جب ان کا کفن تیار ہورہا تھا تو لوگوں نے محسوس کیا کہ جیسے بی اماں اپنی بیٹی کے چوتھی کے جوڑے کو جس قدر انہماک سے تیار کر رہی تھیں آج وہ جوڑا مکمل ہوگیا ہو۔بی اماں نے اپنی بیٹی کے کفن تیار کرلیا جیسے اس کے چوتھی کے جوڑے میں آخری ٹانکہ لگالیا ہو۔

چوتھی کا جوڑا کا مرکزی خیال

عصمت چغتائی نے افسانہ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ میں غریب گھرانے کی لڑکی کبریٰ کی شادی کی آرزو میں دن گزارنے کے قصے کو پیش کیا ہے۔ بی اماں محلے میں سب لڑکیوں کے چوتھی کے جوڑے تیار کرتی تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کبریٰ کے لیے بھی جوڑا تیار کر رہی تھیں۔ اپنے بھائی کے لڑکے راحت کی آمد پر انہیں امید تھی کہ وہ کبریٰ کا ہاتھ تھام لے گا۔ لاکھ مہمان نوازی اور کوشش کے باوجود راحت کبریٰ کو پسند نہیں کرتا تب کبریٰ زندگی کی جنگ ہار جاتی ہیں اوربی اماں چوتھی کا جوڑا کی جگہ اپنی بیٹی کا کفن تیار کردیتی ہیں۔ اس افسانے میں غریب لڑکیوں کی شادی کے مسائل اور انسانی نفسیات کو فنکار ی سے پیش کی گیا ہے۔

چند اہم سوالات
دس سطروں میں جواب لکھیے۔
سوال ۱۔ افسانہ چوتھی کا جوڑا کا مرکزی خیال کیا ہے وضاحت کیجئے
۲۔ افسانہ چوتھی کا جوڑا کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کیجئے۔
جواب: ( جواب کے لیے افسانہ چوتھی کا جوڑا کا خلاصہ پڑھیں)

سوال ۳۔ چوتھی کا جوڑا کی روشنی میں عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری پر نوٹ لکھیے۔
جواب: عصمت چغتائی(1915-1991) اردو کی مشہور افسانہ نگار و ناول نگار ادیبہ گزری ہیں۔نصابی کتاب کے سرسری مطالعہ میں شامل ان کا افسانہ ’’ چوتھی کا جوڑا‘‘ ایک شاہکار افسانہ ہے۔جس میں انہوں نے غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادی کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عصمت اردوفکشن کی بے تاج بادشاہ ہیں۔انھوں نے مسلم معاشرے میں متوسط گھرانوں کی پردہ نشیں لڑکیوں کی ذہنی اورنفسیاتی الجھنوں کو اور ان سے جنم لینے والے مسائل کو بڑے سلیقے سے اپنے ناولوں اورافسانوں کا موضوع بنایاہے۔


ان افسانوں میں چوتھی کا جوڑا ان کا مشہور افسانہ ہے جو ان کے جذبات، مشاہدات اوراحساسات کا فن کارانہ اظہار ہے۔اس شاہکار افسانے میں عصمت نے غریب اورلاچار سماج کی تصویر کشی کی ہے۔یہ دردر بھری کہانی ایک مجبور، بے بس بیوہ اوراس کی دوبیٹیوں کی کہانی ہے۔بیوہ جو بی اماںکے کردار میں ہے، اس کو کپڑے سینے میں بڑی مہارت حاصل ہے اور یہی اس کا ذریعہ معاش بھی ہے۔محلے کی عورتیں نہ صرف ان سے کپڑے سلواتیں، بلکہ اس دوران اور بھی کئی مشورے لیتیں۔بڑی بیٹی کبریٰ اورچھوٹی حمیدہ ہے۔بی اماں وہ بدنصیب بیوہ ہے جو اپنی بیٹی کی شادی کے ارمان دل میں لیے چوتھی کے خوبصورت جوڑے کو تیار کرکے بڑی احتیاط اورحفاظت سے صندوق کے حوالے کردیتی ہے۔اس طرح خوبصور ت جوڑے تیار ہوتے رہے لیکن وہ صرف صندوق ہی کی زینت بنتے رہے جیساکہ اکثر ہوتاہے۔کبریٰ کے والد کے انتقال کے بعد دوست واحباب نے آنکھیں پھیر لیں اورلاکھ کوششوں کے باوجود غریب اوربے بس بیوہ کی بیٹی کو کوئی اپنانے کو تیار نہ ہوا۔لیکن ایک دن اچانک یوں ہواکہ کبریٰ کے منجھلے ماموں کا بڑابیٹاراحت جس کا تقررپولس میں ہوگیاتھاٹریننگ کے لیے آرہاتھاجیسے ہی یہ خبر بی اماں اورکبریٰ کو ہوئی مانوان کے دل میں شہنائیاں بجنے لگتی ہیں۔


ان کو یقین کامل ہوجاتاہے کہ بیٹی کا نصیب کھل گیاہے۔پروردگار عالم نے ان کی سن لی، اب ان کی تمام مشکلات کا مداواہوگیا۔وہ ایک نئے جوش اورجذبے کے ساتھ کبریٰ کا خوبصورت دوپٹہ تیار کرتی ہے، اس دوران راحت کا پرتپاک خیرمقدم کیاجاتاہے اوروہ اپنے قیمتی زیوارت بیچ کر اس کے آسائش وآرام اور خوردو نوش کا انتظام کرتی ہے۔بی اماں اورکبریٰ اپنی ساری امیدیں راحت سے وابستہ کرلیتی ہیں، ہزاروں ارمان دل میں لیے لیکن خاموشی سے اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑتی ہیں لیکن اسے خدمت کا صلہ کچھ یوں ملتاہے کہ ایک دن اچانک راحت یہ کہہ کر اپنارخت سفر باندھ لیتاہے کہ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔کبریٰ دق کے مرض میں مبتلاء ہوجاتی اورآہستہ آہستہ یہ مرض اسے مکمل اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ اس طرح وہ بد نصیب اورنامراد کبریٰ جس کا ہاتھ تھامنے کوئی مرد اس لیے تیار نہ تھاکہ وہ جہیز میں ٹھوس کڑے یا بھرت پایوں کاپلنگ بھی نہیں لاسکتی تھی۔آخر کا ر موت اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے اوروہ بڑے سکون اوراطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیتی ہے۔وہ ماں جس نے بڑے ارمانوں سے چوتھی کے خوبصورت جوڑے تیارکیے تھے صبروتحمل سے بیٹی کو کفن پہناتی ہے۔اس پورے واقعہ کو عصمت نے بڑے موثر اور دردمندانہ انداز میں پیش کیاہے جسے کبھی بھلایانہیں جاسکتا۔افسانے میں انھوں نے مشاہدے کو نہ صرف تصویرکی رنگینی کے ساتھ پیش کیاہے بلکہ اس کے ساتھ جذبے کا گداز بھی شامل ہے جس کی وجہ سے اسے نقش دوام حاصل ہوا۔وہ سرگوشی کے انداز میں کچھ کہناچاہتی ہے۔افسانہ پڑھنے کے بعد عجیب وغریب کیفیت دیر تک قائم رہتی ہے۔


عصمت نے خود اس افسانے کے متعلق کہاتھاکہ میرامقصد سماج کو اس طرف متوجہ کرناہے کہ روٹی اورکپڑے کے لیے عورت مرد کی محتاج نہ رہے۔سماج میں عورتوں کے حرکات، ان کی گفتگوجو مخصوص موقعوں پر سامنے آتی ہیں، بی اماں اوران کی منہ بولی بہن کی کھسرپھسرکو بڑی مہارت اورچابک دستی سے پیش کیاہے۔رمزیت اورطنزیاتی انداز قابل تعریف ہے، مصنفہ کا طنز چھپاہوااوربھرپور ہوتاہے۔افسانے میں کئی ایسے طنزیاتی جملے ملتے ہیں گویاانھوں نے ان جملوں کے ذریعے اپنے دل کا غبار نکال لیاہے۔زبان وبیان کے اعتبار سے بھی یہ افسانہ قابل توجہ ہے، اس کی نثر اپنے اندر بے ساختگی اورتیکھے پن کے علاوہ تخلیقی جوہر بھی رکھتی ہے۔افسانہ نگار کو الفاظ کے انتخاب میں غیرمعمولی احتیاط سے کام لیناپڑتاہے۔اس بات کو انھوں نے پوری طرح ملحوظ خاطر رکھاہے، جیساکہ افسانے میں بیان کیاگیاہے کہ کبریٰ تکیے کے غلاف پر گل بوٹے کاڑھتی ہیں  تو اس میں وہ لطف باقی نہیں رہتا جو سوئٹ ڈریم کاڑھنے میں ہے، کیوں کہ کبریٰ جو سہانے سپنے دیکھاکرتی، اسی مناسبت سے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اظہار کا سب سے بڑاذریعہ زبان ہے اورزبان صرف الفاظ کا کام ہی نہیں  کرتی بلکہ زبان میں لب ولہجہ اورطرزِ اداسب کچھ شامل ہے۔افسانے میں الفاظ، تشبیہات اورعلامات کا نیااستعمال ملتاہے۔ان الفاظ سے اورنفسیات سے قاری لطف اندوز ہوتاہے۔تشبیہ کی یہ صورت بظاہر بڑی عجیب وغریب معلوم ہوتی ہے۔افسانے میں کچھ الفاظ ایسے استعمال ہوئے ہیں جو صرف اور صرف عورتوں کی معاشرتی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، ویسے تو یہ الفاظ بارہاسنے معلوم ہوتے ہیں لیکن جب ان الفاظ کو تخلیقی قوتوں سے سجایاجاتاہے تو انھیں احساسات وجذبات کا جامہ پہنانابڑامشکل کام ہوتاہے لیکن عصمت نے ان تمام مشکل کاموں کو بڑی کامیابی اورکامران سے طے کیاہے۔کبریٰ کے انتقال کے بعد بی اماں  کے جذبات کو جس طرح پیش کیاہے۔مختصر یہ کہ یہ افسانہ اپنی تمام تر قوتِ مشاہدہ، نفسیات اورجذبات کی عملی حقیقت، موزوں طرز بیاں، دلچسپ مواداوراس کے فنکارانہ اظہار کی وجہ سے ہمیشہ اردوافسانے کی صف اول میں اپنی تمام ترکامیابیوں اورکامرانیوں کے ساتھ شمار ہوتارہے گا۔

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے